حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ روحانیت بلتستان کے شعبۂ تحقیق کے زیرِ اہتمام ایک علمی، ادبی، تحقیقی اور تاریخی نشست، حسینیہ بلتستانیہ کے فاطمیہ ہال میں منعقد ہوئی؛ جس میں علم و تحقیق اور ادب سے دلچسپی رکھنے والے بزرگ اساتذہ، علمائے کرام اور طلاب کرام نے شرکت کی۔

نشست کا آغاز تلاوتِ کلامِ الٰہی سے ہوا، جس کی سعادت مولانا احمد حسین ضمائری نے حاصل کی۔

نشست کے مہمانانِ خصوصی بلتستان سے تشریف لائے ہوئے معروف ادبی و تحقیقی شخصیات، محترم وزیر فدا حسین مایا شگری اور نوجوان محقق و شاعر جناب تہذیب الحسن تھے۔

نشست کے منتظم مولانا بشیر دولتی نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور ان کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ روحانیت بلتستان کا شعبۂ تحقیق، ارضِ بلتستان اور سرزمینِ قم میں موجود محققین اور قلمی جہاد کرنے والوں کی تحقیقی و قلمی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان میں فکری، علمی اور تحقیقی پختگی پیدا کرنے کے لیے مختلف علمی نشستوں کا انعقاد کرتا رہتا ہے اور ارضِ بلتستان سے تشریف لانے والے محققین، مصنفین اور ادبی شخصیات کے ساتھ بھی صمیمی نشستوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاکہ ان کے افکار، روش اور تحقیقی کاموں سے بھرپور استفادہ کیا جا سکے۔

اس موقع پر معروف نوجوان محقق، مصنف اور شاعر جناب تہذیب الحسن نے علمائے کرام کے ساتھ اس عمدہ علمی نشست کے انعقاد پر جامعۂ روحانیت بلتستان، شعبۂ تحقیق کا شکریہ ادا کیا اور ارضِ بلتستان کی تاریخ، بالخصوص سیاست اور تبلیغ میں علمائے کرام کی گرانقدر خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔
انہوں نے تاریخِ بلتستان اور بزرگ علمائے کرام کی دینی و سیاسی جدوجہد کو اپنی پختہ، محققانہ اور متین گفتگو کے ذریعے اجاگر کیا۔


دوسرے مہمانِ خصوصی، ادبِ بلتستان کے کہنہ مشق ادیب، مصنف، استاد، نقاد اور کلامِ بُوا عباس اور بُوا شیخ سحر کے شارح، محترم وزیر فدا حسین مایا شگری نے ان عظیم شعراء کے کلام میں موجود نشیب و فراز، خوبصورت تشبیہات، ادبی گہرائی اور شاعرانہ استعارات پر نہایت لطیف اور پرمغز گفتگو کی۔

صدرِ محفل، حجت الاسلام والمسلمین سید سعید موسوی نے مہمانانِ گرامی اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ارضِ بلتستان اور قم المقدس میں مقیم محققین اور قلم کاروں کے درمیان مضبوط رابطہ قائم کر کے علاقے کی تاریخی اور اصل ثقافتی خصوصیات پر مشترکہ طور پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے، تاکہ ہماری حقیقی تاریخ اور اصل ثقافت وقت کے ساتھ مسخ نہ ہو۔










آپ کا تبصرہ